Saturday, January 29, 2011

ہم آتے رہے ہیں آتے رہیں گے

محمد فردوس

گذشتہ 9 اکتوبر 2010 کے روزنامہ راشٹریہ سہارا اردو دہلی کے سر ورق پر ملت کے ایک ”صفحہ اول کے دانش ور (جن کا قارئین کو انتظار بھی تھا)“ کا حسب مرتبہ صفحہ اول پر نمودار ہونا باعث تعجب کیونکر ہو۔ اس کے ایک دن قبل بھی ایک اسلامی اسکالر اپنی نصیحتوں و مشوروں سے ہمارا ذائقہ بگاڑ چکے ہیں ابھی اور بھی ملت کے ”دانا اور حکیم “ اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر اپنا ’تعاون‘ پیش کرنے کے لیے یقیناً تیار ہونگے جو رہ رہ کر منظرِ عام پر آتے رہینگے اور کچھ بے ضمیروں کی تلاش بھی جاری ہے۔ چلئے ان باتوں کو چھوڑیے اب ملت اپنے ”ہر دل عزیز قائد“ کو خوب پہچانتی ہے۔

جہاں تک آستھا کی بات ہے تو ایسا نہیں کے مسلمان بے آستھا ہیں۔ ہماری آستھا ہی کا تقاضہ ہے کے ہم قانون کی بالادستی قبول کرتے ہیں ورنہ سر پھرے لوگ کہاں اور کس زمانے میں نہیں ہوتے اور آئندہ نہ ہونگے اس کی کیا گیارنٹی ہے لیکن ہم ان امن پسند لوگوں کی آرا کی قدر کرتے ہیں اور انشا اللہ کرتے رہیں گے۔

اکثیریت کی دھونس اور اقتدار کا نشہ بھی مظلوم کو عدالت کی چوکھٹ پر جانے سے روک رہا ہے۔ طرح طرح کے لالچ، خوف و ہراس کے ہتھ کنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ پھر بھی ہم دنیا میں سب سے بڑے لوک تنتر کا راگ الاپنا نہیں بھولتے۔ جن کے حق میں عدالت نے فیصلہ دیا وہی عدالت عظمیٰ جانے سے گھبراتے ہیں اور نیایالہ کا سمّان کا بھی اعتراف کرنے کی بات کرتے ہیں، ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ عدالت سے ہمارے حق میں فیصلہ نہیں ہوتا ہے تو ہم لوک سبھا میں جائیں گے اور وہا ںسے بھی بات نہیں بنتی توآندولن چلائیں گے، سمجھ میں نہیں آتا کہ نیایالہ کا سمّان اور جن آندولن میں کیا مطابقت ہے، کیا یہ عدالت کے فیصلے کا کھلا انکارنہیں ہے نیایالہ کا سمّان اسی طرح کیا جاتا ہے یہ بات انصاف پسند عوام بھی اچھی طرح جانتی ہے لیکن ابھی اکثیریت میں یہ جرا ¿ت نہیں کے بر ملا اس کا اظہار کر سکے اور یہی وجہ ہے کے یہ فتنہ گر لوگ اسطرح کا ماحول بنا رہے ہیں۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے اور ہمارے دانشوروں کا ظلم و نا انصافی کو رحمت سمجھ کر قبول کرنے کا ملت کو مشورہ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کہا جائے الفاظ نہیں ملتے۔

ایسا ہی موقع رہا ہوگا جب غزوہ ¿ احد کے لشکر سے 300 لوگوں کو واپس کر لیا گیا تھا وہ بھی بغیر دلیل نہیں بلکہ ملت کے ’مفاد ‘کے پیشِ نظر ہی تھا۔ یقیناً ایک قلیل تعداد کی بڑی قوت سے ٹکرانے کی بات تھی۔ جان گنوائے جانے کا خدشہ تھا۔ ایمان کو تھوڑی دیر کے لیے اگر بالائے طاق رکھ دیں تو عقل بھی اسے تسلیم کرتی ہے لیکن اللہ اور اس کے رسول کے ہر حکم کو سر آنکھوں پر اٹھانے والوں کو نتیجوں کی فکر کہاں ہوتی ہے۔ مذکورہ 300 لوگ تاریخ میں اپنی جگہ کہاں پاتے ہیں اور ان کا وہ قائد کس ”بلند ترین مرتبہ“ پر فائز ہے یقیناًہر ذی علم مسلمان اس سے اچھی طرح واقف ہے۔

Email: mfirdaus@gmx.com

No comments:

Post a Comment