بشیر اسد
ان دنوں کشمیر میںزعفران کے پھول جوبن پر ہیں اور زعفران کے لہلہاتے کھلیان بڑا ہی دِلکش اور دلفریب منظر پیش کررہے ہیں ۔ اگر چہ زعفران کی کاشت ڈوڈہ ، کشتواڑ کے سرحدی علاقوں سے لےکر کپواڑہ کے دور دراز پہاڑی علاقوں تک کی جاتی ہے تاہم پانپور کی وسیع و عریض زعفرانی زمینیں سرینگر ،جموں قومی شاہراہ کے کناروںپر واقع ہونے کی وجہ سے نہایت ہی معروف ہیں اور واردِ کشمیر ہونے والے ہر اپنے اور پرائے کا دل موند لیتی ہیں ۔آج کشمیری زعفران پر قلم اُٹھانے کی وجہ کشمیری زعفران کی خوبصورتی بیان کرنے سے بالکل الگ ہے:
پورے ہندوستان میںگزشتہ دو تین دہائیوں سے ہندو کٹر پسند تنظیموں پر مشتمل سنگھ پریوار کے ساتھ زعفرانی رنگ کو جوڑا جا رہا ہے اور بی ،جے ، پی ، آر ، ایس ، ایس ، شیو سینا ، بجرنگ دل اور دیگر ہندو انتہا پسند تنظیموں کو مشترکہ طور Saffron-Brigadeکے نام دیا جاتا ہے اور ابھی حال ہی میں آر ،ایس ، ایس کا دہشت گردی کے کئی واقعات میںملوث ہونے کی حالیہ خبروں کے پس منظر میں ملک کے وزیر داخلہ پی ،چدامبرم نے اس دہشت گردی کو Saffron Terrior کے نام سے منسوب کیا ہے ۔ قطع نظر اس کے کہ سنگھ پریوار کو Saffron Birgadeکے نام سے منسوب کرنے کے کیا حقیقی اور تاریخی محرکات ہیں اور اس کے پیچھے اور کون کون سے عوامل کارفر ہیں کشمیری عوام کو زعفران رنگ ہندو اتنہا پسند وں سے منسوب کرنے پر اعتراض ہے ۔اس اعتراض کے پیچھے کون سے تاریخی عوامل کارفرما ہیں انکا ذکر کرنا یہاں بہت ہی ضروری ہے ۔ دراصل ثقافتی ورثہ اور مذہبی اشعار ایسے دو اہم ترین عوامل ہیں جن کی وجہ سے کشمیر اور کشمیریوں کا دنیا میں منفرد مقام ہے ۔
کشمیر میں اسلام صوفیائی اصولوں کے تحت پھیلا ہے اور فطرتاً کشمیری حلیم اور برباد ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی روداری کا قدرت کا عظیم شاہکار ہے جس کی مثال دنیا میں بہت کم ملتی ہے ۔ یہ بنیادی طور کشت خون اور دھنگہ فساد سے بالکل پاک ہے اور گزشتہ دو دہائیوں میں جتنا خون کشمیر وادی میںبہا ہے اُسکی تمام تر ذمہ داری ہندوستان اور پاکستان پر عائد ہوتی ہے اور دنیا کا کوئی بھی ذی شعور شخص جو کشمیر کی سیاسی صورتحال سے باخبر ہو کشمیری کو موردِالزام نہیں ٹھہرا سکتا ہے ۔اگر چہ کشمیری کے جذبہ ایثار اور مہمان نوازی کی مثال کہیں نہیں ملتی تاہم کشمیر تہذیبی اور ثقافتی تبدیلیوں کو مسکن رہا ہے اور ان تبدیلیوں کا وراث بھی ۔ اس تناظر میں اگر بات کریں تو تاریخی شواہد کے مطابق زعفران 500 قبل مسیح میں فارسی حکمرانوں کے ذریعے آیا ہے اور 600 قبل مسیح میں زعفران کی کاشت کشمیر میں عام ہوئی ۔ جب کہ چینی تاریخ کے مطابق کشمیر میں زعفران کا پہلا بیچ ایک بودھ عالم مدھیا نٹکا نے 500 قبل مسیح کے آس پاس بویا اور مہاتما بدھ کے انتقال کے بعد زعفران کی زبردست کاشت کے پس منظر میں زعفران رنگ کو بودھوں نے دفتری رنگ قرار دیا ۔
بہر حال 600 قبل مسیح میںزعفران کی کاشت کشمیر میں باضابطہ طور پر شروع ہوئی اور کشمیرکے دنیا کے مختلف خطوں کے ساتھ سڑک روابط کو استعمال کرکے زعفران کو دنیا کے مختلف مارکیٹوں تک پہنچایا گیا ۔ لیکن کشمیر کے روایتی قصہ خوانوں کے مطابق مشہور صوفی بزرگوں خواجہ مسعود ولی اور حضرت شیخ شریف الدین نے1200ہجری میں زعفران کشمیر لایا اور اس کی کاشت شروع کی ۔ بہرحال معروف کشمیر ادیب محمد یوسف ٹینگ اس روایت سے اختلاف کرتے ہیں ۔ اُنکے مطابق زعفران کشمیر میں دو ہزار سال سے کاشت ہورہا ہے ۔
زعفران کا پھول گول اور بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے ۔ جو ہر سال خود بخود اُگتا ہے اس پھول کی لمبائی 15 سے 25 سینٹی میٹر ہوتی ہے ۔ اور یہ پھول زمین کے نیچے گول Rhizome سے اُگتا ہے ۔ زعفران پھول انتہائی نازک ہوتا ہے اور اس کی خوشبو یذدانی ۔ زعفران کے لئے سرد خشک آب و ہوا ضروری ہے اور زعفران کی پیداوار گرمیوں میں بارش کی مقدار اور درجہ حرارت پر براہ راست منحصر ہے ۔بارش زیادہ ہو تو پیداوار بہت اچھی ہوتی ہے ۔ زعفران کا پھول عموماً 15 اکتوبر سے15 نومبر کے درمیان کھلتا ہے ۔
سنسکرت میں زعفران کیشارا ، کنما ، ارونا ، اسرا اور اسریکا کے ناموں سے مشہور ہے ۔ اردو ، بنگالی اور پنجابی میں اس کو زعفران ہی کہتے ہیں اور کشمیر ی میںزعفران کو کونگ کہتے ہیں ۔کشمیر دنیا میں زعفران اگانے والی تین اہم جگہوںمیںسے ایک ہے اور کشمیری زعفران دنیا میں سب سے بہتر زعفران مانا جاتا ہے ۔ پورے ہندوستان میں کشمیر کو چھوڑ کو زعفران کی کاشت اور کہیں نہیں ہوتی ہے ۔
بہر حال زعفران کے مختصر تاریخی پس منظر کو بیان کرنے سے مقصود صرف یہ ہے کہ زعفرانی رنگ کشمیر کی ثقافت ، تہذیب اور تمدن کا آیئنہ دار ہے اور اس رنگ کو ملک کے ہندو انتہا پسند تنظیموں کے لئے استعمال کرنا شاید کشمیریوں کے ساتھ ایک اور نا انصافی ہے ۔
ہمیںکوئی اعتراض نہیں ہوتا اگر زعفرانی رنگ کو سرکار کسی قومی رنگ کا مقام دیتی ہے یا پھر کسی تاریخی حیثیت کے مقام یا ورثہ کو اس نام سے منسوب کرتی ہے ۔ہمار ا اعتراض صرف اس بنیاد پر ہے کہ یہ رنگ کشمیر کی تہذیبی اور ثقافتی ورثہ کا عظیم شاہکار ہے اور اس نام کو فرقہ پرست اور انتہا پسند تنظیموں کے لئے استعمال نہیںکیا جاسکتا ہے ۔
ساڑے پانچ سو سال پرانی بابری مسجد کو اگر سنگھ پریوار ایک جھٹکے میں زمین بوس کرتے ہیں تو کیا ہمیں دوہزار سال پرانے زعفرانی رنگ ان سے منسوب کرنے پر اعتراض نہیں ہو سکتا ہے ۔ کشمیر کے ادیبوںاور قلمکاروں کو زعفرانی رنگ کی واپسی کے لئے قلم کی نوک کو حرکت دینا ہوگااور اس ثقافتی جارجیت کے خلاف تحریک چلانے کا باضابطہ اعلان کرنا چاہیے تاکہ سنگھ پریوار کو یہ احساس ہو کہ کشمیری نہ صرف سیاسی طور با حس ہیں بلکہ اپنے تہذیبی اور ثقافتی ورثہ کے حوالے سے بھی اتنہائی حساس ہیں۔


No comments:
Post a Comment