آخر ہم بار بار عدالتوں میں اپنی جنگ کیوںہارجاتے ہیں؟
احمد جاوید
مسلم یونیورسٹی اور جامعہ کے اقلیتی کردار کامسئلہ ہو یا شریعت میں مداخلت کا قضیہ یا پھر بابری مسجد کی طویل ترین قانونی جنگ‘ یہ اس ٹریجڈی کی چند بڑی مثالیں ہیں‘ جس سے اس ملک میں مسلمانوں کو ہردن گذرنا پڑتا ہے۔
ہم اپنی جنگ ملک کے آئین وقانون‘ نظام حکومت اور عدلیہ کی زمینی سچائیوں کو سامنے رکھ کر نہیں لڑتے اور مخالفین کو وہ سب کچھ کرنے کا موقع خود ہی فراہم کرتے ہیں‘ جن پر بعد میں سینہ کوبی کرتے ہیں۔ اسی کی مثال مسلم یونیورسٹی کا تازہ معاملہ بھی ہے اور بابری مسجد کیس میں وقف بورڈ کا کچا پکا مقدمہ بھی۔
مستند ماہرین ومحققین کی موجودگی میں وقف بورڈ کا ان لوگوں کو عدالت کے سامنے بحیثیت ایکسپرٹ پیش کرنا‘ جن کی معلومات اخباروں کی رپورٹوں پر مبنی تھی اور جنہوں نے اجودھیا دیکھا تک نہیں تھا‘بورڈ کے وکلاءکی کونسی سنجیدگی تھی۔ کہیں ہمارے وکیلوں نے بھی اخبارات کی رپورٹیں اور سیاست دانوں کے بیانات پڑھ کر تو بحث کی تیاری نہیں کی تھی۔
ہندوستانی عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری اپنی جگہ مسلم‘ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہماری عدالتیں ملک کے مسلمانوں کے لئے ہمیشہ واٹر لو کامیدان ثابت ہوئی ہیں جہاں وہ اپنی ہر جنگ ہارتے آئے ہیں‘ جس کے لئے خود مسلمان بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں‘ جتنا ملک کا دیمک زدہ نظام اور انگریزوں کے زمانے کے وہ قوانین‘ جن میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی کہاوت کو عملی جامہ پہنانے کی بے پناہ گنجائشیں موجود ہیں۔
زیادہ تکلیف دہ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے مسلمانوں کی جو حالت ایک دور افتادہ وپسماندہ گاﺅں میں ہے‘ جہاں جہالت اور ناداری ڈیرہ ڈالے ہوئی ہے‘ وہی حالت قومی سطح پر بھی ہے۔ دہلی او ر لکھنو ¿ کے مٹھوں میں براجمان ملت کے مہنتوںکی حالت بھی گاﺅں کے پھول حسن میاں سے مختلف نہیں۔
یہ 1970 کی دہائی کا واقعہ ہے۔ شمالی بہار کے ایک دور افتادہ وپسماندہ گاﺅں کے قبرستان پر پڑوسی گاﺅں کے ہریجنوں نے قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ جنتاپارٹی کا دورحکومت تھا اور ان کے حوصلے بے حد بڑھے ہوئے تھے۔ کانگریس سے مسلمانوں کی دوری برہمنوں کے لئے سوہان روح تھی۔ وہ ان سے خارکھائے بیٹھے تھے۔ حکومت نے بے زمین مزدوروں میں زمین کی تقسیم کی مہم چلائی‘ تو انہوں نے اپنی بستی کے پاسوانوں کو بہکا دیا کہ اگر تم لوگ قبرستان کو جوت لو‘تو بہ آسانی اس پر تمہارا قبضہ ہوجائے گا‘ کیونکہ یہ بھی سرکاری زمین ہی ہے۔ وہ ہتھیاروں سے لیس ہوکر اور دوسری بستیوں کے سینکڑوں ہریجنوں کو بھی ساتھ لے کر قبرستان پر ہل چلانے آگئے‘ لیکن اس سے پہلے کہ قتل وغارت کابازارگرم ہوتا‘ پولس حرکت میں آگئی۔ اور اس نے مسلمانوں کی رپورٹ پران کے خلاف کارروائی کی۔دو مقدمے قائم کردئیے۔ایک تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے‘بلوائیوں کی بھیڑ جمع کرنے‘ امن عامہ کو نقصان پہنچانے‘قبرستان پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کرنے اور بزور طاقت قبضہ کرنے کی کوشش جیسے جرائم کا۔ دوسرا مقدمہ ضابطہ فوجداری کی دفعات 144اور 145کی کارروائی تھی۔ پہلے مقدمہ میں قبرستان پر حملہ کرنے‘ فساد بھڑکانے ‘مارپیٹ اور توڑپھوڑ کرنے کے مجرموں کو اس لئے کوئی سزا نہیں ہوسکی کہ سماعت کے دوران گواہوں میں سے ایک پھول حسن میاں‘ جو گاﺅں کے خود ساختہ رہنما تھے‘وکیل استغاثہ کے مشورے کے مطابق بیان دینے کے بجائے اپنی عقل کے گھوڑے کو لگام نہ دے سکے۔ وہ اپنے آپ کو قانون دانوں سے زیادہ سمجھ دار اور وکیلوں سے زیادہ جانکار تصور کرتے تھے۔ وکیل صفائی نے دوران جرح ان کی خوب تعریف کی۔ آپ تو گاﺅں کے سرپرست‘ رہنماا ور بااثر آدمی ہیں۔ ہندو مسلمان سب آپ کی بات مانتے ہیں۔ جھگڑے سے پہلے آپ نے دونوں فریق کو سمجھانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ جھوٹی تعریف نے ان کی عقل چھین لی اور جوش خود ستائی میں انہوں نے کہا کہ ’ہم نے کوشش کی تھی۔ تھوڑی دیر تک ادھر ادھر گھمانے کے بعدوکیل نے دوسرا سوال کیا کہ جب آپ کی بات اطراف کے گاوﺅں کے بڑے بڑے لوگ نہیں ٹالتے‘ تو یہ ہریجن جو آپ کے کھیت کے مزدور ہیں‘ ان پر آپ کے سمجھانے کا کوئی اثر نہیں ہوا؟ ان کا جواب تھا” ہم موقع پر تھوڑی دیر سے آئے تھے‘ ہمارے آنے کے بعد وہ چلے گئے“ کیا آپ نے پنچایت سے تنازعہ حل کرانے کی کوشش کی تھی؟ جواب تھا کہ”کوشش کی تھی“ حالانکہ فساد کے وقت موصوف نہ گاﺅں میں تھے اور نہ موقع پر پہنچے تھے۔ وہ پولس کے آنے اور سارا ہنگامہ ٹھنڈا ہوجانے کے بعد وہاں تشریف لائے تھے۔ لیکن نیتا جوٹھہرے‘ ہر معاملے میں آگے آگے نظرآنا اور سارا کریڈٹ اپنے سرلے لینا ان کا حق تھا۔ عدالت جو یقینا پہلے سے تیار بیٹھی تھی‘ ملزمین کو اس ایک گواہی کی بناپر بری کردیا۔ موصوف کی خودستائی نے سارے الزام دھودئیے اور جو ڈیشیل مجسٹریٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دونوں فریق میں زمین کا تنازعہ پہلے سے چلا آرہا تھا اور جب ان سے کہاگیا کہ پنچایت سے تصفیہ کرلیں‘ تو متنازعہ اراضی پر ہل چلانے کے لئے آنے والے لوگ واپس چلے گئے‘ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ دنگا‘فساد یا مارپیٹ کی نیت سے نہیں آئے تھے۔ دوسرے گواہوں کے بیانات کو فرقہ وارانہ جذبات اور جوش عداوت سے متاثر محمول کرلیاگیا ۔ دفعہ 145 کی کارروائی آٹھ نوسال چلتی رہی اور ایس ڈی او کی عدالت نے بعد میں دونوں فریق کی عدم پیروی کی بناپر مقدمہ کو داخل دفتر کردیا۔ اس وقت اس قبرستان پر اگرچہ ان میں سے کسی فریق کا قبضہ نہیںہے۔ سرکاری کاغذات اور سروے کے دستاویزات میں قبرستان درج ہے‘ لیکن اب جبکہ اس واقعہ کو پچیس تیس سال سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے‘ وہی ہریجن اس پر اپنے قبضہ کا دعویٰ کردیں‘ پچھلے سارے ثبوت مٹانے میں کامیاب ہوجائیں اور اس مدت میں بنا لئے گئے جعلی ثبوت پیش کریں اور مسلمانوں کے پاس نہ تو اس زمین کی ملکیت کا کوئی اصلی اور پختہ ثبوت ہو‘ نہ 144 اور 145 کی کارروائی کا اور قدیم کاغذات میں مالکانہ حق ریاست کے نام درج ہو‘تو کسی قانون داں سے پوچھ لیجئے کہ فیصلہ کس کے حق میں آئے گا؟ اور وہ بھی اس حالت میں کہ جب عدالت کاجھکاﺅ آپ کے خلاف ہو؟
گاﺅں سے راجدھانی تک

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو ¿ بنچ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنایا‘ تو بہار کے ایک دور افتادہ گاﺅں کے قبرستان کا یہ قضیہ میرے ذہن کے پردے پر کسی ٹریجڈی فلم کی طرح گھوم گیا۔ یہ اس ملک میں کسی ایک قبرستان کا قصہ نہیں ہے‘ ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کی ہزاروں موقوفہ اراضی‘ قبرستان‘ عیدگاہ‘ امام باڑے‘ مزارات اور دوسری جائیدادوں پر اسی طرح غیر مسلموں کا قبضہ ہوگیا اور بے چارے مسلمان سینہ کوبی کرتے رہے۔ ہندوستانی عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری اپنی جگہ مسلم‘ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہماری عدالتیں ملک کے مسلمانوں کے لئے ہمیشہ واٹر لُو کا میدان ثابت ہوئی ہیں۔جہاں وہ اپنی ہرممکن کوشش کے باوجودہارتے آئے ہیں۔ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کا مسئلہ ہو یا شریعت میں مداخلت کا قضیہ یاپھر بابری مسجد کی طویل ترین قانونی جنگ‘ یہ تو اس ٹریجڈی کی چند بڑی مثالیں ہیں‘ جس سے اس ملک میں مسلمانوں کو ہر دن گذرنا پڑتا ہے‘ہماری عدالتیں آئے دن ایسے فیصلے اوراحکامات جاری کرتی رہتی ہیں‘ جن پر ہم آہیں بھرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اس کے لئے عموماً خود مسلمان بھی اتنے ہی ذمہ دار ہوتے ہیں‘ جتنا ملک کا دیمک زدہ نظام اور انگریزوں کے زمانے کے وہ قوانین‘ جن میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی کہاوت کو عملی جامہ پہنانے کی بے پناہ گنجائشیں موجود ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے مسلمانوں کی جو حالت ایک دور افتادہ وپسماندہ گاﺅں میں ہے‘ جہاں جہالت اور ناداری ڈیرہ ڈالے ہوئی ہے‘ وہی حالت قومی سطح پر بھی ہے‘ دہلی اور لکھنو ¿ میں بھی صورت حال مختلف نہیں۔ ملت کے خود ساختہ لیڈروں میں اپنے سرسہراباندھنے کی وہی حد سے بڑھی ہوئی خواہش جو ہمارا ہرکام بگاڑ دیتی ہے‘ وہی خود سری اور ہمہ دانی‘ وہی بے صبری اور ہلکا پن‘ماہرین قانون کی باتوں کو سنجیدگی سے لینے اور ان کا مشورہ ماننے کے جذبہ کا وہی فقدان‘ جو گاﺅں کے پھول حسن میاں میں ہے‘قومی سطح کے ملی قائدین میں بھی ہے۔ دہلی اور لکھنو ¿ کے مٹھوں میں براجمان ملت کے مہنتوں کی حالت بھی پھول حسن میاں سے مختلف نہیں‘ بلکہ ہر شاخ پر ایک پھول میاں بیٹھا ہے‘ جو ملک کے آئین و قانون کی باریکیوں کو سمجھے بغیر ماہرانہ رائے بھی دیتا ہے اور ملت کی قسمت کے فیصلے بھی کرتا ہے۔ یہ نادان چپ بیٹھنے سے بھی عاجز ہیں‘ کیونکہ ان کو ہر وقت اپنی دوکان اونچی اٹھانے کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔ ذراسی تعریف کیا ہوئی‘ یہ اپنے آپے میں نہیں رہتے‘ کسی نے مسکراکر دیکھ لیا‘ یہ قربان ہوگئے۔ ان میں سے ہر شخص قائد اعظم ہے‘ سب سے بڑا سیاست داں‘سب سے بڑا ماہر قانون‘ سب سے بڑھ کر دانشور‘ قائد اور امام۔ ہمارے علماءوفقہا کو آپسی مجادلوں سے ہی فرصت نہیں کہ وہ آئین وقانون کی باریکیوں پر غور کریں‘ وہ ایک دوسرے کو زیر کرنا معراج علم تصور کرتے ہیں۔ ہمارے سیاست داں اخباروں میں چھپنے اور ٹی وی پر چمکنے کو معراج سیاست سمجھتے ہیں۔اس کے لئے وہ کچھ بھی کریں گے‘ اس سے کیا غرض کہ کوئی ان سے کیو ںاور کیا کہلوانا چاہتا ہے۔سیاسی جماعتوں کے بڑے لیڈروں کی خوشنودی ان کی منزل ہے۔ ہمارے صحافی افواہیں پھیلانے اور سیاست کا روں کا اشتہار کرنے کو صحافت سمجھتے ہیں۔ ہمارے قانون دانوں کی قانون کے علاوہ دنیا بھر کی سرگرمیوں میں دلچسپی ہے اور زعم ایسا کہ سول کورٹ سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک تنہا ہی میدان سرکرلینا چاہتے ہیں۔ اگر اس وقت آپ کے سامنے بابری مسجد رام جنم بھومی کیس کے فیصلے ہوں‘ تو ایک بار پھران پر نظرڈالیں‘ اجودھیا کی عدالتوں سے ہائی کورٹ تک کیا سب کچھ وہی نہیں ہوا‘ جو بہار کے ایک دور افتادہ وپسماندہ گاﺅں میں ہوتا ہے۔
بابری مسجد پر 1949 میں ضابطہ فوجداری کی دفعات 144و 145 کے تحت کی گئی کارروائی کا کوئی ثبوت اس وقت آپ کے پاس نہیں تھا‘ جب 1986 میں ضلع جج نے تالاکھولنے کاحکم دیا۔ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس مدت میں وہ ثبوت مٹادئیے گئے مگر کیوں؟ دوسرے تو ہر ممکن قانونی داﺅ پیچ میں مصروف تھے۔ حکومت اور اس کے مختلف محکمے ثبوت بنانے اور مٹانے میں ان کی مدد کر رہے تھے اور یہ اس ملک میں ہمارے لئے کوئی غیر متوقع عمل نہیں تھا‘ لیکن آپ؟ آپ تو ان کا غذوں اور نوٹسوں کی بھی حفاظت نہیں کرسکے‘ جو144اور 145کی کارروائی کے سلسلے میں جاری کئے جاتے ہیں‘ چہ جائےکہ عدالت کی مکمل کارروائی اور پولس کی تمام رپورٹیں محفوظ ہوتیں۔ وہ تو کہئے کہ 23دسمبر 1949 کو اجودھیا کے رام جنم استھان تھانہ میں ایک غیر مسلم سپاہی کی اطلاع پردرج کی گئی ایف آئی آر محفوظ رہ گئی اور ہندوﺅں کی جانب سے کئے گئے دو مقدموں میں مسلمانوں(ظہور احمد وغیرہ) کو مدعا علیہ(فریق ثانی) بنایاگیا‘ ورنہ ہائی کورٹ متنازعہ اراضی پر شاید آپ کا اتنا استحقاق بھی تسلیم نہیں کرتی جتنی 30ستمبر کے فیصلے میں کی گئی ہے‘لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسی کو مقدر سمجھ کر ہم خاموش بیٹھ جائیں‘ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس سے سبق لے کر انصاف کی جنگ کو صحیح سمت میں آگے بڑھائیں اور پھر وہی غلطی نہ دوہرائیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہرگز نہیں کہ ان حیلوں اور جعلسازیوں کی بنیاد پر دیا گیا فیصلہ جائز ہے۔
اصل مجرم
اس میںکسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہ گئی ہے کہ بابری مسجد پر دفعہ 144‘ اور 145 کی کارروائی کی گئی تھی اور اسی کارروائی کے تحت لگائے گئے تالے یکم فروری 1986تک مسجد کے دروازوں پر موجود تھے‘ جس کی تائید ان مقدموں سے بھی ہوتی ہے‘ جو 16جنوری 1950 کو گوپال سنگھ وشار د اور دسمبر 1950 میں مہنت پرم ہنس رام چندر داس نے کیا تھا ‘دونوں مقدمے مسلمانوں کے نام کئے گئے تھے ۔ لیکن جب جنوری 1986میں وشووہندو پریشد کے ایک وکیل اکھلیش چندر پانڈے نے اپنی عرضی میں یہ دعویٰ © کیاکہ تاریخی عمارت کے دروازوں پر لگائے گئے تالے غیرقانونی ہیں‘ سرکاریا عدالت نے کبھی ایسا کوئی حکم دیاہی نہیں‘ تو اس کے خلاف کوئی واضح اور پختہ ثبوت کسی کے پاس نہیں تھا۔ یقیناایک خاص مدت کے بعد اس کارروائی کے کاغذات یا تو عدالت (ایس ڈی ایم ‘صدر فیض آباد) نے خودد ہی تلف کردئیے‘ جیسا کہ عام طور پر کردیاجاتا ہے یاپھر وہاں سے یہ ثبوت سازش کے تحت مٹائے گئے۔ دونوں صورت میں اصل مجرم ہم خود ہیں۔ قاعدے کے مطابق اس کارروائی کے پختہ ثبوت فریقین کے پاس ہونے چاہئیں اور چونکہ معاملہ منصف کی عدالت میں زیر سماعت تھا‘ اس لئے اس کی فائلیں وہاں منتقل کرادینی چاہئیں‘ لیکن ہمارے وکیلوں ‘گواہوں اور مدعیوں کو آج تک اس کاکوئی علم نہیں ہے کہ یہ ثبوت کہاں گئے۔ یہ مقدمہ تقریباً 42 برسوں تک فیض آباد کی عدالتو ںمیں رہا اور اس کے بعد 21برسوں تک ہائی کورٹ کی خصوصی بنچ میں اس کی سماعت ہوئی۔ 6دسمبر 1992تک مسجد کی عمارت موجود تھی اور اس پر وہ کتبہ بھی‘ جس میںمسجد کا سن تعمیر اور اسے تعمیرکرانے والے کا نام درج تھا۔مسجد کی عمارت اور اس کا کتبہ سب سے پختہ ثبوت تھے‘ جو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مٹادئیے گئے۔ یہ الگ بحث ہے کہ اس کی جگہ کہیں اور سے لایاگیا ایک قدیم شلا لیکھ اور کچھ منقش ستون کہاں سے لاکر وہاں ڈالے گئے ۔ اصل سوال تو یہ ہے کہ 1950 سے 1992تک 42 سال کی طویل مدت میں ہم نے ایک بار بھی عدالت سے مسجد کے اس کتبہ کا مشاہدہ نہیں کرایا۔ سنی سینٹرل وقف بورڈ نے 1961 میں ملکیت کا مقدمہ کیا۔ ایک طفل مکتب بھی جانتا ہے کہ ٹائٹل سوٹ کوئی پولس کی ایف آئی آر نہیں ہوتی کہ کوئی بھی اٹھا اور جاکر درج کرادیا۔ مقدمہ تیار کرنے سے پہلے بھرپور قانونی تیاری کی جاتی ہے‘ ہر دعویٰ ثبوتوں کی بنیاد پر کیاجاتا ہے اور یہ نکتہ ہر وقت ملحوظ رکھا جاتا ہے کہ ہمارے کسی بیان سے فریق مخالف کے کسی دعوے کو تقویت تونہیں پہنچی ہے ۔ لیکن بابری مسجد کیس میں وقف بورڈ کے دعوے کی سنجیدگی کا اندازہ آپ اس سے لگاسکتے ہیں کہ اس نے دعویٰ کیا کہ یہ مسجد بابر کے ذریعے تعمیر کرائی گئی تھی اور بادشاہ نے اس کے لئے باضابطہ وظیفہ جاری کیا تھا‘ لیکن وہ اس دعوے کو عدالت میں ثابت نہیں کرسکا اور یہ ممکن بھی نہیںتھا۔ بورڈ نے اپنی عرضی میں یہ بھی تحریر کیا کہ 1934 کے فرقہ وارانہ فسادات میں اس مسجد کو نقصان پہنچایاگیا تھا اور 1949میں اس میں مورتی رکھ دی گئی‘ تب سے متنازعہ جائیداد دفعہ 145کے تحت چلی آرہی ہے۔
آپ کو معلوم ہے کہ ہائی کورٹ کے تینوں ججوں نے متفقہ طور پر وقف بورڈ کا دعویٰ خارج کردیا۔ گویا اس مقدمہ سے مسجد کے حق میں کوئی فائدہ تو نہیں ہوا‘ لیکن اس سے اول تو فریق ثانی کا قبضہ ثابت ہوتاہے۔ دوم ان کے اس دعوے کو تقویت پہنچتی ہے کہ متنازعہ اراضی پہلے سے متنازعہ چلی آرہی تھی۔ جب متنازعہ جائیداد دفعہ 145کے تحت حکومت کے مقررکردہ ریسیور کے پاس تھی اور اس پر لگائے گئے تالے سرکاری تھے توفریق ثانی یا مدعا علیہ بھی اسی کو بنانا تھا‘ جیسا کہ نرموہی اکھاڑے نے 1949 میں مقدمہ کیا‘ تو مسلمانوں کو فریق بنانے کے بجائے بابو پریہ دت رام(ریسیور) کو فریق بنایا۔ 1934 کے فرقہ وارانہ فساد کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ بھلا اس سے ملکیت کے مقدمہ میں آپ کے دعوے کو کیا فائدہ ہوسکتا تھا۔ آپ نے خود ہی فریق مخالف کے اس دعوے کو تقویت پہنچائی کہ مسجد پہلے سے متنازعہ چلی آرہی تھی اور 1949 میں مورتی رکھنے سے اچانک اس تنازعہ کا آغاز نہیں ہوا۔ شاید آج اسی لئے مہنت گیان داس‘رام ولاس ویدانتی‘مہنت بھاسکر داس اورمہنت رام داس اس مقدمہ کے مدعی محمد ہاشم انصاری کا پھولوں کے ہار سے استقبال کررہے ہیں‘ کیونکہ متنازعہ اراضی پر ان کے دعوے کو تقویت پہنچانے میںوقف بورڈ کے مقدمہ کا بھی اہم رول ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر مسلمان اولین دو مقدموں میں ہی قاعدے سے اپنادفاع کرتے اور 1961میں یہ مقدمہ نہ کرتے‘ تو کہیں بہتر تھا۔ ہم یہاں کسی کی نیت پر شک نہیں کر رہے ہیں ‘ جن وکیلوں نے یہ مقدمہ تیار کیا تھا‘ معلوم نہیں وہ کون تھے ‘ ہم ان کی پیشہ وارانہ ایمانداری پر بھی انگشت نمائی کرنا نہیں چاہتے‘ لیکن ملت کے ناخداﺅں کو یہ احساس دلانا ضرور چاہتے ہیں کہ ہم اپنی کسی بھی قانونی لڑائی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے‘ مشکل سے مشکل مسئلے کو بھی ہلکے میں لیتے ہیں۔ہمارے ارباب اقتدار‘سرکاری حکام‘ پولس اور انتظامیہ ایماندار نہیں ہیں اور ہمارے تئیں تو اور بھی نہیں‘ لیکن ہم ان کی جانب سے بیدار ومحتاط نہیں رہتے۔ ہم اپنی جنگ ملک کے آئین وقانون ‘نظام حکومت اور عدلیہ کی زمینی سچائیوں کو سامنے رکھ کر نہیں لڑتے‘ اپنی سوچ کے حساب سے لڑتے ہیں اور ان کو وہ سب کچھ کرنے کا موقع ہم خود ہی مہیا کراتے ہیں‘ جن پر بعد میں سینہ کوبی کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات تو ہمیں پھنساکر عدالت میں لایاجاتا ہے اور ہم سیاست دانوں یا کسی اور کے تیار کردہ خوبصورت جال میں بڑی آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔ جس کی مثال مسلم یونیورسٹی کا تازہ معاملہ بھی ہے اور بابری مسجد کیس میں وقف بورڈ کا کچا پکا مقدمہ بھی ۔
اے ایم یو کی مثال

مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کا جو تنازعہ اس وقت سپریم کورٹ میں زیر غورہے‘ کس طرح شروع ہوا‘ آپ کو یقینا یاد ہوگا ۔ اس وقت کے مرکزی وزیر مملکت برائے فروغ انسانی وسائل محمد علی اشرف فاطمی نے اکتوبر 2004میں اقلیتی تعلیمی کانفرنس بلائی تھی۔ محکمہ کے بڑے وزیر ارجن سنگھ اس میں کھل کر رخنہ تو ڈال نہیں سکتے تھے‘ کیونکہ فاطمی یوپی اے کے ایک اہم حلیف آر جے ڈی کے کوٹہ کے وزیر تھے۔ اس لئے شاطرانہ چالوں کا سہارا لیا۔ کانفرنس کا اصل ایجنڈا اقلیتی اسکولوں اور مدرسوں کی جدید کاری اور مرکزی مدرسہ بورڈ کا قیام تھا‘ لیکن بڑے وزیر نے بڑی خوبصورتی سے اس کانفرنس کو ہائی جیک کرلیا۔ مرکزی مدرسہ بورڈ‘ جس سے مسلمانوں کا کچھ بھلا ہوسکتا تھا اور بعض ریاستوں کی طرح مرکز کو بھی تعلیم کے بجٹ میں اس کے لئے چند کروڑ روپے مختص کرنے پڑتے‘ وہ تو ایک کمیشن کے حوالے کردیا۔ جیسا کہ ایسے ہر معاملے میں کیاجاتا ہے۔ لیکن اسی کانفرنس میں پیش کی گئی مسلم یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر کی یہ تجویز فی الفور منظور کرلی کہ پیشہ وارانہ تعلیم کے اعلیٰ کورسزمیں مسلم امیدواروں کو 50 فیصد ریزرویشن دیاجائے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس آئی اے ایس وائس چانسلر نے کس کے اشارے پر یہ تجویز پیش کی تھی‘ لیکن دنیا جانتی ہے کہ اس کے نتیجے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار کا لعدم کردیا اور اب یہ مسئلہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ 1961 میں سنی سینٹرل وقف بورڈ سے بابری مسجد کے معاملے میں کرایاگیا مقدمہ بھی اسی قسم کے ناپاک کھیل کا حصہ رہاہو۔
ملی قیادت کی بے حسی
6دسمبر 1992کے اعصاب شکن سانحہ کے بعد ملک کے عام مسلمان تو بیدار ہوگئے‘ ان کاشعور کسی نہ کسی حد تک جاگ چکا ہے اور اس کا وہ ثبوت بھی دے رہے ہیں‘لیکن ملک کی ملی قیادت نے ذرا بھی سبق نہیں لیا۔ اس کی دلچسپیاں آج بھی شوروغل‘ نام ونمود‘ حاشیہ آرائی‘ خصیہ برداری اور ملی مسائل پر اپنی سیاست کی روٹیاں سینکنے میں ہے۔اگرہم نے کوئی سبق لیا ہوتا‘ تو کیا ہائی کورٹ میں آپ آثارقدیمہ اور تاریخ کے ایسے ماہرین کو بطور گواہ پیش کرتے‘ جنہوں نے کبھی اجودھیا دیکھا تک نہیں تھا اور جن کے متضاد بیانات عدالت کو ان پر ہنسنے کے لئے مجبور کردیتے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ ثبوت کی تلاش میں زمین کی کھدائی کس حدتک درست ہے۔ صدیوں پہلے کی کسی چیز کا زمین میں پایاجانا ملکیت اراضی کے دعوے کی چھان بین میں معاون ہے یا نہیں؟ اور وقت کے پہیہ کو پیچھے گھمانے یا تاریخ کو پلٹنے کا عمل کتنا خطرناک ہے؟ یہ روایت ایک بار قائم ہوگئی‘ تو کیا ہوگا؟ اور ملک کا آئین وقانون اس کی اجازت دیتا ہے یا نہیں؟ ان بنیادی سوالات سے قطع نظر ہائی کورٹ میں محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ پر وقف بورڈ کی جانب سے بحیثیت آزاد ماہرین (Independent experts) جوتاریخ داں اور ماہرین آثارقدیمہ اپنے دعوے کی تائید میں پیش کئے گئے تھے‘ وہ کس درجے کے تھے‘ اس کا اندازہ ان کے بیانات اور دوران جرح ان کے اعترافات سے ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک نے عدالت کو بتایا کہ” متنازعہ مقام کے بارے میں اس کی جو بھی معلومات ہیں‘ وہ اخباروں کی رپورٹوں اور دوسروں کی کہی ہوئی باتوں سے حاصل کردہ ہیں“۔ اس کی ایکسپرٹی صرف اتنی تھی کہ اس نے اخبارات کی رپورٹوں کو پڑھ کر اور اپنے شعبہ میں عہد وسطیٰ کی تاریخ کے ماہرین سے تبادلہ خیالات کرکے بابری مسجد تنازعہ پر ایک پورٹ تیار کی تھی‘ جو غالباًشائع بھی ہوئی تھی۔اے آئی ایس(محکمہ آثار قدیمہ) کی رپورٹ کو چیلنج کرنے والے ان گواہوں میں سے ایک نے عدالت میں پیش ہونے سے پہلے گراﺅنڈ پنیٹریشن رڈ ار سروے کی اس رپورٹ کو بھی پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی‘ جس کی بنیاد پر عدالت نے کھدائی کاحکم دیا تھا۔ایک اور ایکسپرٹ نے اعتراف کیا کہ” اسے فیلڈ کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ جسٹس سدھیر اگر وال نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ”عدالتیں عام حالات میں کسی گواہ کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کرتیں اور وہ صرف یہ طے کرتی ہیں کہ وہ قابل اعتبار ہے یانہیں‘ لیکن اس خاص کیس کی حساسیت اور تنازعہ کی نوعیت اور اس کے باوجود ایسے مضحکہ خیز اور غیر ذمہ دارانہ قسم کے بیانات کے پیش نظر ہم اپنے آپ کو روک پانا مشکل پارہے ہیں....“ یہ ماہرین محترمہ سوویرا جیسوال‘جیامینن ‘شیرین ایف رتناگر تھیں۔ اسی طرح ایک اور ایکسپرٹ پروفیسر سورج بھان کی گواہی ایک دوسری ایکسپرٹ شیرین موسوی کے اس بیان سے بے وزن ہوگئی کہ” مسٹر بھان آثار قدیمہ کے ماہر ہیں‘ عہدوسطیٰ کی تاریخ کے ایکسپرٹ نہیں ہیں“۔ جسٹس اگروال نے ان ماہرین کے دستخط شدہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچنے میں مدد کرنے کے بجائے یہ بیانات مزید پیچیدگیاں‘تضادات اور تنازعات پیدا کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”کوئی عام آدمی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگرچہ یہ بیان میرا ہے‘ لیکن اس کی صداقت کے لئے میں ذمہ دار نہیں ہوں‘ کیونکہ یہ میرے اپنے مطالعہ یا تحقیق پر مبنی نہیں ہے‘ بلکہ جوکچھ میرے علم میں ہے‘ وہ دوسروں نے بتایا ہے“۔
جہاں تک اے این ایس کی کھدائی اور اس کی رپورٹوں کا تعلق ہے‘ تو یہ سلسلہ 1970 کی دہائی سے جاری ہے‘ جب آر کیا لوجیکل سروے آف انڈیا کے سابق ڈائریکٹر جنرل پروفیسر بی بی لال نے یہ رپورٹ پیش کی تھی کہ اس جگہ سے مندر ہونے کے آثار دستیاب ہوئے ہیں۔پروفیسر لال نے اپنی حتمی رپورٹ 1980میں پیش کی تھی‘ لیکن جب انڈین کونسل آف ہسٹوریکل ریسرچ کی چار ماہرین کی ٹیم نے کھدائی میں دستیاب ہونے والی اشیا کا جائزہ لیا‘ تو پروفیسر بی بی لال کے دعوے کو بالکل بے بنیاد پایا۔ جن چار ماہرین کی ٹیم نے یہ تحقیق کی تھی‘ وہ کوئی عام قسم کے لوگ نہیں تھے‘ ان میں آئی سی ایچ آر کے سابق چیئرمین پروفیسر آر ایس شرما‘ اے ایم یو کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر اطہر علی‘ لکھنو ¿ یونیورسٹی کے پروفیسر سورج بھان اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈی این جھاجیسے مستند تاریخ داں وماہرین آثارقدیمہ شامل تھے۔ مو ¿خر الذکر نے تو اجودھیا تنازعہ پر باضابطہ تحقیقی کتاب لکھی ہے۔ اس ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ پیش کرنے سے پہلے کئی بار اجودھیا جاکر اس مقام کی تحقیق کی تھی۔ ان ماہرین نے پروفیسر لال کی سائٹ نوٹ بک‘ رجسٹراور کھدائی میں ملنے والی اشیائ‘ خاکے‘ نقشے اور ان کے ذریعے لی گئی تصاویر کا باریک بینی سے مطالعہ کیا تھا اور پھر پختہ دلائل سے بی بی لال کے دعوے کی تردید کی تھی۔ انہوں نے باضابطہ پریس کانفرنس بلاکر 26 اکتوبر 1992 کو اپنی تحقیقات کے نتائج پیش کئے تھے۔( اور اس کے صرف ایک ماہ بعد منصوبہ بند طریقے سے بابری مسجد کو شہید کردیاگیا) سوال یہ ہے کہ ان مستند ماہرین کی موجودگی میں وقف بورڈ کا ان لوگوں کو عدالت کے سامنے بحیثیت ایکسپرٹ پیش کرنا‘ جن کی معلومات اخباروں کی رپورٹوں پر مبنی تھی اور جنہوں نے اجودھیا دیکھا تک نہیں تھا‘ بورڈ کے وکلاءکی کونسی سنجیدگی اور دانشمندی ہے۔ کہیں ہمارے وکیلوں نے بھی اخبارات کی رپورٹیں‘ صحافیوں کی گل افشانیاں اور سیاستدانوں کے بیانات پڑھ کر تو بحث کی تیاری نہیں کی تھی؟؟