انٹرٹینمنٹ کے نام پر بے حیائی کا بازار گرم ہے
انجم نعیم
ان دنوں ٹیلی ویژن کے مختلف چینلوں پر رئیلیٹی شوز کے نت نئے پروگراموں نے ایک ہنگامہ برپا کررکھا ہے۔ پرائم ٹائم میں دکھائے جانے والے یہ شوز کہیں ڈانس کا مقابلہ کرواتے نظرآتے ہیں تو کہیں گیت کاری اور موسیقی کا۔ کہیں کرتب بازیاں ہیں تو کہیں کامیڈی کی پھلجھڑیاں‘ کہیں ایک ہی گھرمیں ایک پوری ٹلی کی زندگی گزارنے کی معرکہ آرائی ہے تو کہیں دوسری دنیا میں لے جاکر اگلی زندگی کے راز اگلوانے کی کوشش۔کہیں عاشقوں کو ملانے تو کہیں میاں بیوی کے درمیان ہونے والی جوتم پیزار کو انصاف دلانے کی نوٹنکی۔ گویا زندگی کا شاید ہی کوئی گوشہ ہے‘ جس پر رئیلیٹی شوز نے اپنے کیمرے کو گاڑ کر اس کی بدنمائیوں کو آشکار کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔ کوئی ہارتا ہے تو روتا ہوا اور اپنے آنسو پوچھتا ہوا جارہے اور کوئی کامیاب ہوتاہے تو خوشی کے آنسو بہاتا اور کودتا پھاندتا چلاجارہاہے۔ ہارنے اور جیتنے‘ دونوں میں شریک امیدواروں کو فائدہ ہوتا ہے۔ کسی کو دولت ہاتھ آتی ہے تو کسی کو شہرت۔ خوش ہونے میں بھی فائدہ‘ جھگڑاکرنے میں اور شورکرنے میں بھی فائدہ۔ پروڈیوسرز کو تو کوئی جیتنے یا کوئی ہارے‘ ہر حال میں فائدہ ہی فائدہ۔ آنے والے لاکھوں لاکھ فون کالوں سے ہونے والی آمدنی الگ اور کروڑوں کے ملنے والے اشتہارات سے ہونے والی آمدنی الگ۔ اس لیے کئی برسوں سے شوجاری ہے اور اس میں عام دیکھنے والے اس طرح مدہوش ہیں کہ ان کو اپنے ہونے والے نقصان اور گھر میں زبردستی گھس آنے والی برائی اور بے حیائی کا احساس تک نہیں ہوتا۔
ان رئیلیٹی شوز کی اصل رئیلیٹی کیاہے‘ یہ ایک ایسی پوشیدہ حقیقت ہے کہ ناظرین کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ انہیں کس کس انداز سے اور کس کس چمکدار پیکنگ میں لپیٹ کر کیا کیا خرافات پیش کی جارہی ہے اور کس طرح ان کی بدذوقی کی جذباتی دکانداری کی جارہی ہے۔ ووٹنگ کے نام پر فون کالوں سے ہونے والی آمدنی پروڈیوسروں کی تجوریوں کو تو ضرور بھرتی ہےں‘ لیکن وہ ووٹنگ کیا واقعی نتیجے پر ایماندار طریقے سے اثر انداز بھی ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں بے شمار شکایتیں اور الزامات سامنے آچکے ہیں‘ لیکن ناظرین کا ہوس ذوق اس سے بے پرواہ مستقل ووٹ دینے اور اس کی قیمت ادا کرنے میں مصروف ہے۔
ابھیجیت ساونت ‘ سنجے ملاکار‘ دیبوجیت‘ بندو‘ دارا سنگھ‘شویتا تیواری‘ شلپا شیٹی اور ایسے ہی کئی نام ایسے ہیں‘ جن کو ایک دھاگے نے اپنے ساتھ پرورکھا ہے او وہ دھاگا ہے رئیلیٹی شوز میں کامیابی‘ دولت اورشہرت کے حصول کا ہے۔ ٹیلی ویژن نے ایک پلیٹ فارم عطاکیا اور کامیابی کی گاڑی چھک چھک کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگی۔ اس سے کون انکار کرسکتا ہے کہ ہندی فلم کی اداکارہ شلپا شیٹی کو جو کچھ اور جتنا کچھ صرف ایک رئیلیٹی شو بگ برادر سے حاصل ہوا‘ وہ انہیں اپنی 50فلموں سے بھی حاصل نہیں ہواتھا۔ صرف ایک رئیلیٹی شو سے شلپا شیٹی ملک سے لے کر مغرب کے بیشتر ملکوں میں ایک جانی پہچانی شخصیت بن گئیں اور آج پوری دنیا میں انہیں جاننے والوں اور ان کی قدر کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔2007 کے امریکن آئیڈل میں کامیاب ہونے والا ہندوسانی نوجوان سنجے ملاکار آج امریکن میوزک شوز کا مشہور ترین نام ہے ۔لکھنو ¿ کے ایک چھوٹے سے محلے میں رہنے والا غریب خاندان کا ایک چھوٹے قد کا نوجوان ونیت آج پورے ہندوستان میں اپنی گائیکی کی وجہ سے جانا پہچانا جاتاہے اور انڈین آئیڈل کی وجہ سے آج شاید ہی کوئی میوزیکل پروگرام ایسا ہوتا ہو جہاںونیت بحیثیت فنکار یا اینکر نہ بلایاجاتاہو۔ یہ ہے رئیلیٹی شوز کی وہ طاقت‘ جس نے امیدوار شرکاءسے لے کر تفریح کے شائقین کو دیوانہ بنارکھاہے۔ اپنی شوز میں ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ جیسا شو بھی ہے جو گھنٹے سے بھی کم وقت میں پچھلے چار برسوں سے کئی لوگوں کو کروڑ پتی بنارہاہے تو ’بگ باس‘ جیسا شو بھی ہے‘ جس میں راتوں رات پاکستان سے آئی ہوئی حسینہ وینا ملک اپنے ناز نخروں اور بے حیائی سے ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہوں پر مختلف انداز میں قیامت برپا کررہی ہے۔ایک اہم سوال یہ ہے کہ ہمارے یہ رئیلیٹی شوز اس قدر کامیاب کیوں ہورہے ہیں اور ان کی کامیابی کے پیچھے آخر انسانی جذبات کی کون سی نفسیات کام کررہی ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ مقابلے کے نام پر جو کچھ ہورہاہے‘ وہ سب ایک دکھاوا ہے‘ ایک چھلاوا ہے‘ ایک دھوکہ ہے۔اس کے باوجود لوگ ٹی وی سیٹ سے چمٹے ہوئے بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے پسندیدہ امیدواروں کے حق میں دھڑا دھڑ ووٹنگ کررہے ہیں اور ایک کال کے نام پر کئی کالوں کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ اصل میں یہ ہمارے تھکے ہوئے یا پھر بے کار اور بے حس دماغ کو ایک قسم کی چور دروازے سے فرحت بخشتے ہیں۔ ہماری اپنی زندگی کی ننگی سچائیوں کی عکاسی کرتے ہیں اور ہمارے اندر کی پریشانی‘ لالچ‘ خوف اور لذت کوشی کی نفسیات کی پیاس بجھاتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ نیم بے ہوشی کرکے دوسری دنیا میں لے جاکر اگلے جنم کے راز جاننے کی کوشش میں مصروف اینکر ایک شعبدہ بازی کررہا ہے‘پھر بھی ہمیں اعتبار نہ ہونے کے باوجود قسمت کا حال بتانے والے صفحہ کو پڑھ کر جو ایک گونہ لطف حاصل کرتا ہے‘ وہی لطف ہم اس پروگرام سے حاصل کرتے ہیں۔ بگ باس میں وینا ملک آخر وقت تک اس لیے برقرار ہے کہ وہ ہماری لذت کوشی والی طبیعت کو غذا فراہم کرتی ہے ‘ ورنہ مقابلے میں شریک ایک پاکستانی امیدوار کو ہندوستان میں اس تسلسل اور اس بڑی تعداد میں کون ووٹ کرتاہے۔ دراصل یہ رئیلیٹی شوز انسانی جذبات کی تجارت کرنے کا ایک فن ہے اور چونکہ اس فن کو امریکی ماہرین نے نہایت ماہرانہ لیاقت سے سنوارا ہے اور اس لیے اس کی تجارتی اہمیت ہر ماحول اور ہر موضوع پر مسلم ہے۔
ہرٹیلی ویژن چینل کا بنیادی مقصد یہ ہوتاہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کنزیومر مارکیٹ کو اپنے قبضے میں کرنے کی کوشش کرے اور اسی لیے پروگرام بناتے وقت بھی اس کا پورا خیال رکھاجاتاہے کہ صارفین کی عادت اور اس کی خواہش‘دونوں کو اس کی مطلوبہ چیزیں بہت حسین انداز سے فراہم کی جاسکیں اور اس کا بھی خیال رکھا جاتاہے کہ صارف تک پہنچنے اور اپنا مال اس کو پیش کرنے سے ایسے وقت کا انتخاب کیاجائے‘ جس وقت وہ ذہنی طورپر اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو اور اس کے سامنے دوسری مصروفیات حائل نہ ہوں کہ وہ پوری توجہ سے پیشکش کی طرف متوجہ ہی نہ ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تمام پروگرام پرائم ٹائم یعنی 7سے 9 بجے رات کے وقت پیش کئے جاتے ہیں‘ جس وقت عام طورپر لوگ اپنی تمام روز مرہ کی مصروفیات سے فارغ ہوکر ٹیلی ویژن سیٹ کے سامنے آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ بعض وہ پروگرام جن میں پرائز منی ‘ یعنی کامیاب امیدوار کو رقومات دی جاتی ہیں‘ اس لیے بھی بہت شوق سے اس وقت دیکھے جاتے ہیں‘کیونکہ اس میں ہر ناظر کسی نہ کسی طرح سے خود کو اس میںموجود پاتا ہے یا پھرکوئی میوزیکل پروگرام جس میںہر شخص کوئی نہ کوئی اپنا امیدوار منتخب کرلیتا ہے اور اس کی کامیابی سے خود کو جوڑ لیتا ہے۔ ذی سائن کا پروگرام اسٹار کی کھوج‘ زی ٹی وی’سارے گاما‘ یا سونی کا انڈین آئیڈل یا کون بنے گا کروڑ پتی جیسے پروگرام لوگوں کو اسی اپنی ذہنی شمولیت کی وجہ سے باندھے رکھتے ہیں۔ یہ وہ تمام پروگرام ہیں جو امریکی ٹیلی ویژن پر پیش کئے جاتے ہیں اور ان کی نقل میں ہندوستان میں انکا سلسلہ شروع ہواہے۔ اس لیے عوامی نفسیات کا پورا پورا خیال رکھاجاتاہے او ر اس کو ہر سطح پر نچوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ہندوستان میںباضابطہ رئیلیٹی شوکاآغاز ’انڈین آئیڈل ‘ سے ہوا‘ جو بنیادی طورپر گائیکی کا ایک شوشا اور جو امریکی آئیڈل کو سامنے رکھ کر شروع کیاگیا تھا۔ یہ شو بہت مقبول ہوا اور چونکہ ملک کے مختلف حصوں سے امیدواروں نے اس میں شرکت کی نفی اس علاقائی طورپر امیدواروں کو مقبولیت حاصل ہوئی اورا نہیں فون کا ل کی شکل میں ووٹ ملے۔ یہ تجربہ اتنا کامیاب ثابت ہواکہ ہر انٹر ٹینمنٹ چینل نے کسی نہ کسی رئیلیٹی شو کا آغاز کردیا‘ لیکن جومقبولیت کون بنے گا کروڑپتی کو حاصل ہوئی ہے وہ دوسرے شوز کے حصے میں نہیںآئی‘کیونکہ اس کو امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان جیسے عظیم اداکاروں نے اینکرنگ کیا تھا اور اسٹار ٹی کی اپنی مارکیٹنگ ٹیم تھی ‘ جو اس کو کامیاب بنانے میں تن من دھن سے لگی ہوئی تھی۔ اس شو کی کامیابی کے بعد تو جیسے رئیلیٹی شوز کی جھڑی لگ گئی۔پوپ اسٹار کی کھوج‘ بگ باس‘ وائس آف انڈیا‘ سارے گاما‘ دس کا دم‘ راکھی کا انصاف‘ جھلک دکھلاجا ‘ زور کا جھٹکا اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔ جیسے جیسے یہ سفر آگے بڑھتارہا‘ ٹی آر پی کے چکر میں عوام کو زیادہ سے زیادہ انٹرٹینمنٹ پیش کرنے کے نام پر بے حیائی کو زیادہ سے زیادہ بڑھاوا ملتا چلاگیا۔ گذشتہ دنوں بگ باس اور راکھی کا انصاف جیسے شوز‘ اس قدر بے حیائی میں آگے بڑھ گئے کہ لوگوں اور اداروں نے اس کے خلاف صرف ہنگامہ آرائی ہی نہیں کی‘ بلکہ ان شوز کے پروڈیوسروں کے خلاف عدالت میں مقدم بھی دائر کردیا۔ ان رئیلیٹی شوز میں سہاگ رات کے مناظر نہایت بے حیائی سے دکھائے گئے‘ راکھی کے شو میں ایک شخص کو باربار نامرد کہاگیا اور نہ جانے کیا کیا کگھ نہیں پیش کیا گیا۔ گندی گالیاں‘ جنسی مناظر ‘ ہیجان خیز ڈائیلاگ گویا کوئی ایسا گر نہیںبچا یا جسے ٹی آر پی حاصل کرنے کے لیے آزمایا نہیں گیا۔
بگ باس میں تو بیہودگی کی تمام سرحد کو پار کرنے کی کوشش کی گئی۔ جنسی ہیجان خیزی کے ایسے ایسے مناظر دکھائے جانے لگے کہ گھر میں خاندان کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر یہ شو دیکھنا ناممکن ہوگیا۔ ہر ایپی سوڈ کے بعد یہ شو بےہودہ سے بیہودہ تر ہوتا چلا گیا۔ پہلے تو ڈولی بندرا کی گالیوں نے بے حیائی کی شروعات کی پھر پاکسانی اداکارہ وینا ملک اور اشمت پٹیل کے جنس زدہ کارناموں نے ایسے بے حیائی کی آخری منزل تک پہنچادیا اور یہ سب کچھ صرف شو کو کامیاب بنانے کے نام پر کیا گیا۔ خود اس شو میں شامل ایک امیدوار راہل بھٹ کہتے ہیں کہ جان بوجھ کر بعض ایسی عورتوں کو اس شو میں آخر تک برقرار رکھا گیاکہ وہ اپنی بے حیائی سے اس شو کو مزیدار بنائیں رکھیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس قسم کے رئیلیٹی شوز‘ ایک لکھی ہوئی اسکرپٹ کے مطابق آگے بڑھتے ہیں اور کس کو رکھنا ہے اور کس کو نکالنا ہے‘اس کا فیصلہ عوام کی ووٹنگ کی بنیاد پر نہیں ہوتاہے‘ بلکہ پروڈیوسر جس طرح خود چاہتاہے‘ اپنے شو کو آگے بڑھاتاہے۔ فلم اور ٹیلی ویژن رائٹرز ایسوسی ایشن کے ایک رکن کا کہناہے کہ شاید ہی کوئی رائٹر اس قسم گندی زبان کا استعمال کرسکتا ہے۔ یہ تو سراسر پروڈیوسر کا اپنا فیصلہ لگتاہے کہ اسے اپنے شو میں کس وقت کیا چیز پیش کرنی ہے۔ جس طرح سارا اور علی مرچنٹ کی شادی اور پھر اس کے بعد اس کے سہاگ رات کے مناظر دکھائے گئے‘ اس کو دیکھ کو اس کے علاوہ اور کیاکہا جاسکتاہے کہ یہ سب کچھ اسکرپٹیڈ تھا اور پروڈیوسر نے اپنی مرضی سے جو چاہا وہ دکھایا۔ راکھی کے انصاف میں جن لوگوں کو شو میں پیش کیاگیا ان کو پہلے سے کچھ اور بات بتائی گئی تھی‘ لیکن سیٹ پر لاکر جو بدتمیزی کا ماحول فلمایاگیا وہ خود شو کے شرکاءکے لیے حیرت زدہ کرنے والا اور حیرت ناک تھا۔ شو میں جھانسی کے لکشمن پرشاد کو باربار نامرد کہہ کر اتنا پریشان کیا گیاکہ اس نے بعد میں اپنی بے عزتی سے پریشان ہوکر خودکشی کرلی۔ یہ رئیلیٹی شوز اس وقت انٹرٹینمنٹ کے نام پرجس طرح لوگوں کے جذبات سے کھلواڑ کررہے ہیں‘ وہ ایک نہایت افسوسناک قسم کی روایت کی بنیاد ڈال رہے ہیں اور اگر میں پر لگام نہیں لگائی گئی تو یہ سلسلہ کس مقام پر جاکر ختم ہوگا‘ اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیںہے۔

No comments:
Post a Comment