مشہور صحافی ویر سنگھوی کے قلم سے
اگر آپ کو ہندوستانی سیکولرازم کی کامیابی اور ناکامی کا اندازہ لگانا ہو‘ تو اس کےلئے سب سے بہتر مثال یوسف خان المعروف دلیپ کمار کے کیریئر پر نگاہ ڈالنی کافی ہوگی‘جن لوگوں کا ہندی سنیما سے کچھ بھی تعلق رہا ہے‘ انھیں یہ کہنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہو گی کہ دلیپ کمار ہندی سنیما کا لا فانی کر دار ہے اور اس کی عظمت ہر دور کے لئے تسلیم شدہ ہے۔ اس کے علاوہ اس کی عوامی زندگی ہمیشہ مثالی رہی ہے۔ بہت سارے سیاستدانوں سے اس کے قریب ترین تعلقات کے باوجود ‘اس کانام کبھی بھی کسی کرپشن یا اسکینڈل میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی کبھی کسی کے منہ سے یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ وہ ایک بے ایمان یا دولت پسند شخص ہے‘ بلکہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہماری فلم انڈسٹری کا سب سے غریب ترین اسٹار ہے ۔حقیقت تو یہ ہے کہ دلیپ کمار کے پاس اس وقت جو کل سرمایہ ہے ‘اس سے زیادہ تو شاہ رخ خان کی صرف سالانہ آمدنی ہے ۔
پچاس کی دہائی میں وہ پہلا اسٹار تھا‘ جس نے اپنی مقبولیت کو عوامی فلاح و بہبود کےلئے استعمال کیا‘ اس نے جواہر لعل نہرو کو اپنی خدمات پیش کیں‘ جنھوں نے اپنے مختلف کازوں کو کامیاب بنانے کےلئے اس کا استعمال کیا ۔ساٹھ کی دہائی میں ہند- چین جنگ کے وقت اس نے جوانوں کےلئے پیسے جمع کئے اور 1965میں جب ہندوستان پاکستان کی جنگ چھڑی‘ تو اس وقت بھی اس نے سب سے آگے بڑھ کر مالی تعاون پیش کیا ۔ہر آنے والی حکومت نے معاشرے اور ہندوستان کی ترقی کے تئیں اس کی خدمات کا اعتراف کیا اور ہر بار اسے کوئی نہ کوئی نئی خدمت سونپی گئی ۔مثلاً وہ مسلسل 20سال تک ممبئی کا شیرف رہا اور ہر تقریب میں وہ دوسروں سے ممتاز نظر آیا۔
اس لئے آپ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہندوستانی سیکولرازم کا سب سے کامیاب چہرہ دلیپ کمار ہے‘ تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ وہ یقینا ایک سچا وطن پرست مسلمان ہے اور ہندوستان نے بھی اس کی زندگی میں ہی اسے ایک اساطیری کر دار بنا دیا‘لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری باتیں کہنے میں جتنی آسان ہیں‘ اصلیت میں اتنی آسان نہیں ہیں۔ اس سے الگ کہ وہ اپنی زندگی میں کتنا کامیاب رہا ‘ دلیپ کمار کو ہمیشہ اور ہر قدم پر یہ احساس دلایا گیا کہ وہ تو ایک مسلمان ہے اور اس کی ابتدا اس کے نام سے ہوئی‘ حالانکہ اس نے ہمیشہ اس کا انکار کیا کہ اسٹوڈیو نے اس کا نام دلیپ کمار صرف اس کی مسلم پہچان چھپانے کےلئے رکھا تھا‘ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اس زمانے کے بہت سارے مسلم اداکاروں کو جان بوجھ کراپنا اصلی خاندانی نام تبدیل کر نا پڑا تھا۔ اس وقت اسٹوڈیو یعنی فلمی دنیا کا عام خیال تھا کہ اگر آپ ایک ہندو ہیں‘تو فلم کی کامیابی کےلئے یہ ایک بڑی شرط پوری کر تے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پچاس کی دہائی میںہندوستان میں بیشتر لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ دلیپ کمار واقعی میںیوسف خان ہے۔ اس وقت اخبارات میں بھی فلمی اداکاروں کے بارے میںزیادہ باتیں نہیں چھپتی تھیں‘ بس ایک فلمی میگزین ’فلم انڈیا‘شائع ہوتا تھا اور اس کی بھی پہنچ زیادہ نہیں تھی ۔نہ ٹیلی ویژن تھا اور نہ ہی آج کی طرح مختلف فلموں سے جڑے لوگوں کے عوامی پروگرام ہوا کر تے تھے ۔پیشکش اور اہلیت کی بنیاد پر فلم اسٹاروں کی مقبولیت ہوتی تھی‘ اس لئے دلیپ کمار کی جو بھی مقبولیت اور عظمت کا ڈنکا بجتا تھا‘ وہ بس اس کی اہلیت کی بنیاد پر ہی تھا۔
ساٹھ کی دہائی میں مسائل سامنے آنے لگے۔ اس کی فلم گنگا جمنا کوسینسر بورڈ نے روایت سے بالکل ہٹ کر کافی مشکلات میں ڈال دیا ۔سینسر بورڈ نے اس سے صاف صاف کہہ دیا کہ اس کی اس فلم کو ریلیز کرنے کی اس وقت تک اجازت نہیں دی جائے گی‘ جب تک اس فلم کے پچاس سین کو کاٹ کر نکال نہ دیا جائے ۔سینسر بورڈ کی اس ضد سے نہ صرف یہ کہ پوری فلم ہی تباہ ہوکر رہ جانے والی تھی‘ بلکہ بے ایمانی کا یہ عالم تھا کہ جو اعتراضات کئے جارہے تھے‘ ان میں بیشترا نتہائی لغو اور بے بنیاد تھے ۔مثلاً ایک سین تھا کہ ڈاکو چلتی ٹرین پر چڑھنے کی کوشش کررہے ہیں،اس سین پر اعتراض یہ تھا کہ ڈاکو اس سین کو دیکھ کر اسی طرح چلتی ٹرین پر چڑھنے کی کوشش کریں گے،اس لئے اس سین کو فلم سے نکال دیا جائے‘ لیکن اعتراض کی تو اس وقت انتہا ہو گئی‘ جب فلم کے آخری سین میں دلیپ کمار نے مر تے وقت ’ہے رام‘کہا تھا۔ اس پر سخت اعتراض کر تے ہوئے اسے فلم سے نکالنے کےلئے کہا گیا ۔دلیپ کمار نے پوچھا کہ اس پر آپ کو کیا اعتراض ہے‘تو جواب دیا گیا کہ یہ تو گاندھی جی کے آخری الفاظ تھے ۔یعنی یہ تو کوئی ہندو ہی مر تے وقت اپنی زبان سے ’ہے رام‘کہہ سکتا ہے‘ دوسرا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔یہی اس گنگا جمنا کا ذکر ہے‘ جسے آج ہندوستانی سنیما کا کلاسک کہا جاتا ہے ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کہ اس زمانے میں راج کپور کی فلم’جس دیش میں گنگا بہتی ہے ‘سنیما گھروں میںریلیز ہونے والی تھی‘ اس لئے سینسر بورڈ کو رشوت دیکر گنگا جمنا کی ریلیز کو رکوانے کی کوشش کی گئی تھی‘ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ دلیپ کمار کو ہمیشہ یہ احساس رہا کہ اس سلسلے میںصرف اورصرف مذہبی عصبیت کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور اس کا مسلمان ہونا اس کی مصیبت کاسبب بنا۔
ٹھیک اس کے کچھ دنوںبعد ہی ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا اور وہ تو پہلے سے بھی بدترین تھا ایک دن کلکتہ سے ایک پولس پارٹی ممبئی پہنچی اور اس نے دلیپ کمار کے گھر پر چھاپہ مارا۔ پولس کاکہنا تھا کہ دلیپ کمار ایک پاکستانی جاسوس ہے اور وہ اسے گرفتار کر کے لے جانے آئی ہے۔ دلیپ کمار اور وہ بھی ایک جاسوس ‘یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ لیکن پولس کے پاس خفیہ ذرائع کی خبر تھی کہ دلیپ کمار پاکستان کو یہاں کی خبریںفراہم کرتا ہے‘ پولس کا کہنا تھا کہ اس کے پاس مصدقہ انفارمیشن ہے کہ دلیپ کمار نے وجنتی مالا کے بارے میں ساری معلومات پاکستان کوفراہم کی ہیں‘ بعد میں پتہ چلا کہ کلکتہ پولس نے ایک شخص کو پاکستانی جاسوس ہونے کے شک میں گرفتار کیا ہے اور اس کی ڈائری میں بہت سارے مشہور لوگوں کے نام درج تھے اور اس میں دلیپ کمار کا بھی نام تھا۔ہندوستانی پولس کی شاندار روایت کے مطابق اس نے اس سے فوراً یہ نتیجہ نکالا کہ ڈائری میںجتنے ہندوو ¿ں کے نام تھے‘ وہ تو جان پہچان والے لوگوں کے نام تھے ‘لیکن ان میں جو مسلمانوں کے نام تھے‘ وہ در اصل پاکستان کےلئے جاسوسی کرنے والوںکے نام تھے اور ان مسلمانوںمیںملک کا سب سے بڑا فنکار دلیپ کمار بھی تھا۔
اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری سوسائٹی میں مذہبی عصبیت کی جڑیں کتنی گہری ہیں کہ ملک کا سب سے بڑا فنکار‘ جو ملک کے وزیر اعظم نہرو کا ذاتی دوست ہے ‘وہ نہایت غلط بنیادوں پر صرف اس لئے پاکستانی جاسوس قرار دیا جاسکتا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہے ۔اگر اس ڈائری میں دیوآ نند کا نام درج ہوتا‘ تو یقینا کبھی بھی اس کے گھر پر پولس کا چھاپہ نہیں پڑتا ۔جواہر لعل کے وزیرا عظم ہونے کے باوجود دلیپ کمار کےلئے یہ ذپنی پریشانی کا سلسلہ کئی ماہ تک چلتا رہا اور ان کی ہرطرح سے انکوائری ہوتی رہی‘ لیکن کئی مہینے بعد جب پولس کو کوئی ثبوت ہاتھ نہیں آیا‘ تو پھر پولس نے اپنی کارروائی بند کی ‘لیکن پورے شہر میں دلیپ کمار کے پاکستانی جاسوس ہونے کی افواہ گشت کر تی رہی‘ خود دلیپ کمار نے اس پریشان کن پولس کارروائی کا اعتراف کیا۔ پورے شہر میں یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ پولس نے اس کے بستر کے نیچے سے ایک ریڈیو ٹرانسمیٹر پر آمد کیا ہے اور وہ فلم انڈسٹری میں مسلمان جاسوسوں کا جو ایک گینگ ہے ‘اس کا لیڈر ہے ۔یہ افواہ صرف پولس نے ہی نہیں‘ بلکہ فلمی دنیا سے وابستہ کئی لوگوں نے باضابطہ پھیلائی اور دلیپ کمار کی پریشانی پر خوب مسرت کا اظہار کیا‘ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود لیپ کمار کے اندر نہ کوئی تلخی پیدا ہوئی اور نہ ہی ان افسوسناک رویہ کی وجہ سے اس کے اندر کوئی مایوسی پیدا ہوئی‘ بلکہ اپنے فلاحی کاموں میں وہ اسی طرح لگا رہا اور جب 1965میںہندوستان اور پاکستان میں جنگ شروع ہوئی‘ تو اپنے فوجیوں کی مدد کےلئے پھر میدان میں اتر کر سر گرم عمل ہو گیا ۔
میں نے یہ واقعہ تفصیل سے ان لوگوں کےلئے لکھا ہے‘ جن کی یادداشت بہت کمزور ہے اور جوان دنوںدلیپ کمار پر اعتراض کر رہے ہیں کہ آخر دلیپ کمار بال ٹھاکرے کے اس بیان پر اس قدر برافروختہ کیوں ہے کہ دلیپ کمار کو پاکستان چلے جانا چاہئے‘ کیونکہ وہ اندر سے ہندوستانی نہیں ہے ۔ دلیپ کمارکی اس قدر خفگی کی وجہ یہ ہے کہ آخر اس سے ہی بار بار کیوں حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ طلب کیا جاتا ہے اور جب بھی وہ اپنے عمل اور کر دار سے اپنی حب الوطنی کا ثبوت پیش کر تا ہے‘ اسے ناکافی سمجھ کر اس سے زیادہ کا مطالبہ کیوں ہوتا ہے ؟
در اصل ٹھاکرے کی دلیپ کمار سے دشمنی پرانی ہے۔ 1967میں جب دلیپ کمار نارتھ بمبئی کے الیکشن کےلئے کرشنا مینن کی حمایت کر رہا تھا‘ تو اس وقت ٹھاکرے شیو سینا بناکر اوپر اٹھنے کی کوشش کررہے تھے اور انھوں نے کانگریس کے اشارے پر ان ملیالی لوگوں کو مارنا پیٹنا اوربمبئی سے بھگانے کی تحریک شروع کر رکھی تھی‘ جن لوگوں نے کرشنا مینن کی حمایت کی تھی‘ اس وقت فلمی دنیا کے تمام چھوٹے بڑے لوگ ٹھاکرے کے گھر پر جاکر حاضری دیا کرتے تھے‘ بس ایک دلیپ کمار تھا ‘جس نے کبھی بھی ٹھاکرے کے دربار میں حاضری نہیں دی۔ اس سے بڑی دشمنی اور کیا ہو سکتی تھی۔ اس بات کو ٹھاکرے کبھی بھلا نہیں پائے اور انھوں نے اسی وجہ سے دلیپ کمار کو کبھی معاف نہیں کیا ۔شیو سینا نے اس کے بعد اپنی مسلم مخالف تحریک شروع کی اور نشانے پر سب سے اوپر دلیپ کمار کا نام رہا۔ ایک سیکولر مسلم دلیپ کمار کو یہ کبھی منظور نہیں تھا کہ وہ ایک فاسشٹ کے دربار میں جاکر حاضری دے۔ اس کے بعد ہی شیو سینا کا دلیپ کمار پر حملہ کرنے کاسلسلہ شروع ہوا۔ بمبئی کے فساد کے وقت جب دلیپ کمار نے فساد سے متاثرہ لوگوں کی مدد شروع کی‘ تو یہ کام بھی شیو سینا کوبہت برا لگا اور اس نے بار بار دلیپ کمار کو اپنا نشانہ بنایا‘ یہاں تک کہ شیو سینا کے ایک ایم پی نے پارلیمنٹ میں دلیپ کمار کو غدار وطن تک کہہ کرمخاطب کیا اور بار ہا مطالبہ کیا کہ دلیپ کمار کو پاکستانی حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے سب سے بڑے اعزاز ’نشان امتیاز “ کوفوراً لوٹا دینا چاہئے ۔
دلیپ کمار کے خیال میں اب صبر کی انتہا ہو چکی تھی‘ اپنی عمر کی ساتویں دہائی میں اب اس کےلئے مزید بر داشت کرنا ممکن نہیں تھا‘ اس نے اپنی حب الوطنی کا ثبوت پیش کرنے کےلئے کافی کام کیا۔ اب اس عمر میںاس کےلئے بال ٹھاکرے سے بر سر پیکار رہنا بہت مشکل تھا اور وہ بھی اس حالت میں کہ مہاراشٹر کی کانگریس حکومت ٹھاکرے کی پشت پناہی کر رہی تھی ۔لہٰذا آخر میں اس نے خاموش ہوجانا ہی مناسب سمجھا۔
اب اس صورتحال میں ہندوستانی سیکولرازم کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے کہ ملک کا ایک مقبول ترین مسلمان‘اپنی زندگی کے آخری دنوںمیں بھی شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس کی حب الوطنی پر مسلسل سوال کھڑے کئے جاتے ہیں‘ لیکن جس طرح دلیپ کمار کو اپنی پوری زندگی میں مذہبی عصبیت کا شکار ہونا پڑا‘ وہ ہم ہندوستانیوں کےلئے نہایت شرم کی بات ہے۔اگر دلیپ کمار جیسے شخص کےلئے ہمارا یہ رویہ رہا ہے‘ توپھر دنیا یہ کیسے یقین کرے گی کہ ہم اپنے ملک کے مسلمانوں کے ساتھ اچھا بر تاو ¿ کرتے ہیں۔



No comments:
Post a Comment